جو چیز لوہے، نکل اور کوبالٹ جیسی اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسے مقناطیس کہتے ہیں۔
مقناطیسی اشیا: لوہا، نکل، کوبالٹ
غیر مقناطیسی اشیا: کانچ، پلاسٹک، لکڑی
| مقناطیسی اشیا (کھنچنے والی) | غیر مقناطیسی اشیا (نہ کھنچنے والی) |
|---|---|
| لوہا، نکل، کوبالٹ | کانچ، پلاسٹک، لکڑی |
مقناطیس ہماری روزمرہ زندگی میں کئی جگہ استعمال ہوتا ہے، مثلاً:
جب سلاخ نما مقناطیس کو دھاگے سے آزادانہ لٹکایا جائے تو وہ کچھ دیر بعد شمالاً جنوباً رک جاتا ہے۔
مقناطیس کے دونوں سروں کے قریب کشش کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ ان حصوں کو مقناطیس کے قطبین کہتے ہیں۔
مشابہ قطب → ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔
غیر مشابہ قطب → ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
مقناطیس کے قطبین کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔
قدرتی طور پر پائی جانے والی مقناطیسی معدنیات سے بنے مقناطیس کو قدرتی مقناطیس کہتے ہیں۔ ان میں مقناطیسیت کمزور ہوتی ہے۔
انسان مختلف ضرورتوں کے لیے مختلف شکل اور قوت کے مقناطیس تیار کرتا ہے۔ انہیں مصنوعی مقناطیس کہتے ہیں۔
اہم مثالیں:
قطب نما سمت معلوم کرنے کا آلہ ہے۔ اس میں آزادانہ گھومنے والی مقناطیسی سوئی ہوتی ہے جو شمال-جنوب سمت بتاتی ہے۔
قطب نما کے قریب لوہے کی ڈبیہ رکھنے سے اس کی سمت درست نہیں رہ سکتی، اس لیے اس کے لیے غیر مقناطیسی مادہ استعمال کرنا بہتر ہے۔