کسی چیز کو دھکیلنے، کھینچنے، اُٹھانے، پھینکنے یا دبانے کے لیے لگائے گئے زور کو قوت کہتے ہیں۔
ہمارے عضلات (پٹھوں) سے لگائی جانے والی قوت کو عضلاتی قوت کہتے ہیں۔
مثال: بستہ اٹھانا، کھیلنا، سائیکل چلانا۔ جانور بھی عضلاتی قوت استعمال کرتے ہیں۔
مشینوں کے ذریعے لگائی جانے والی قوت کو میکانکی قوت کہتے ہیں۔
زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زمین کی اس کھینچنے والی قوت کو ثقلی قوت کہتے ہیں۔
اسی وجہ سے اوپر پھینکی ہوئی گیند یا درخت کا پھل واپس زمین پر آتا ہے۔
مقناطیس کے ذریعے لوہے جیسی چیزوں پر لگنے والی کشش کی قوت کو مقناطیسی قوت کہتے ہیں۔
دو سطحیں ایک دوسرے کے ساتھ رگڑتی ہیں تو رگڑ کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ یہ حرکت کی مخالفت کرتی ہے اور چیز کی رفتار کم کر دیتی ہے۔
مثالیں:
یاد رکھیں:
اسی لیے مشینوں کے پہیوں میں تیل اور گریس لگائی جاتی ہے تاکہ رگڑ کم ہو۔
کنگھے، پلاسٹک یا غبارے کو بالوں پر رگڑنے سے ان میں عارضی برقی بار پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بار کاغذ کے ہلکے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی قوت کو برقِ سکونی کی قوت کہتے ہیں۔
جب کسی چیز پر مخالف سمتوں سے برابر قوتیں لگیں تو وہ قوتیں متوازن کہلاتی ہیں۔ ایسی حالت میں چیز کی حرکت میں تبدیلی نہیں ہوتی۔
جب مخالف سمتوں سے لگنے والی قوتیں برابر نہ ہوں تو اسے غیر متوازن قوت کہتے ہیں۔ زیادہ قوت والی سمت میں نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔
مثال: رسہ کشی میں جس ٹیم کی قوت زیادہ ہو، رسّی اس کی طرف حرکت کرتی ہے۔
کسی سطح کے اکائی رقبے پر لگنے والی قوت کو دباؤ کہتے ہیں۔
اکائی: نیوٹن فی مربع میٹر (N/m²)
اس اکائی کو پاسکل (Pa) کہتے ہیں۔
رقبہ کم → دباؤ زیادہ
رقبہ زیادہ → دباؤ کم
اسی لیے نوکیلی کیل لکڑی میں آسانی سے داخل ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کی نوک کا رقبہ بہت کم ہوتا ہے۔
کئی کیلیں قریب قریب لگی تختی پر کھڑا ہونا نسبتاً محفوظ ہوتا ہے، کیونکہ جسم کا وزن بہت سی کیلوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور ہر کیل پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
زمین کے چاروں طرف موجود ہوا کے غلاف کو فضا کہتے ہیں۔ ہوا بھی زمین اور دوسری چیزوں پر دباؤ ڈالتی ہے، جسے فضائی دباؤ کہتے ہیں۔
جب ہم اسٹرا سے ہوا کھینچتے ہیں تو اسٹرا کے اندر ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ باہر کا فضائی دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی اسٹرا میں اوپر چڑھ جاتا ہے۔