چیز وہ ہے جسے اس کی شکل اور استعمال سے پہچانا جاتا ہے، جیسے کرسی، گلاس اور گھڑی۔
شے وہ ہے جس سے کوئی چیز بنی ہو، جیسے کرسی لکڑی، لوہے یا پلاسٹک کی ہو سکتی ہے۔
تمام اشیا بہت باریک ذرات سے مل کر بنی ہیں۔
ذرات ایک دوسرے سے کتنی مضبوطی سے جڑے ہیں، اس کے مطابق مادے کی تین اہم حالتیں ہیں:
ذرات ایک دوسرے کے بہت قریب اور مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔
مثال: پتھر، لوہا، لکڑی، برف
خاص بات: اپنی شکل قائم رکھتے ہیں۔
ذرات ایک دوسرے سے زیادہ مضبوطی سے جڑے نہیں ہوتے، اس لیے مائع بہہ سکتا ہے اور برتن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
مثال: پانی، دودھ، تیل
ذرات ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں اور آزادانہ پھیل سکتے ہیں۔
مثال: ہوا، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ
حرارت دینے یا ٹھنڈا کرنے سے مادے کی حالت بدل سکتی ہے۔
مثال: برف → پانی → بھاپ
گیس کو ٹھنڈا کرنے سے مائع اور مائع کو مزید ٹھنڈا کرنے سے ٹھوس بن سکتا ہے۔
خاص حالت: سورج، تارے اور بجلی کی کوند میں مادہ پلازما حالت میں ہوتا ہے۔
کسی شے کی کمیت اور حجم کے تعلق کو کثافت کہتے ہیں۔
خالص پانی کی کثافت ۱ گرام/ملی لیٹر اور خالص سونے کی ۱۹.۳ گرام/مکعب سینٹی میٹر ہوتی ہے۔
کثافت کی مدد سے سونے، چاندی، دودھ اور پٹرول میں ملاوٹ کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
روشنی گزرنے کے لحاظ سے اشیا تین قسم کی ہیں:
| قسم | خاصیت | مثال |
|---|---|---|
| شفاف | روشنی پوری طرح گزرے | صاف شیشہ |
| نیم شفاف | روشنی کا کچھ حصہ گزرے | دودھیا شیشہ |
| غیر شفاف | روشنی نہ گزرے | لکڑی، پتھر |
جو اشیا مقناطیس کی طرف کھنچتی ہیں انہیں مقناطیسی اشیا کہتے ہیں۔
مثال:
مقناطیس لوہے کی چھوٹی چیزوں، جیسے کیل اور پن کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
تمام اشیا → ذرات سے بنی ہیں
مادے کی حالتیں → ٹھوس، مائع، گیس
خاص حالت → پلازما
کثافت → کمیت ÷ حجم
روشنی پوری گزرے → شفاف
کچھ روشنی گزرے → نیم شفاف
روشنی نہ گزرے → غیر شفاف
مقناطیس سے کھنچنے والی اشیا → مقناطیسی اشیا