جسم کو توانائی، نشوونما، بیماریوں سے مقابلے اور تندرستی کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب غذا جسم کی تمام ضروریات پوری کرے تو کہا جاتا ہے کہ غذا بدن کو لگ رہی ہے۔
کسی علاقے میں وہاں کی آب و ہوا، مٹی اور پیدا ہونے والی فصلوں کے مطابق جو غذا زیادہ استعمال ہوتی ہے اسے علاقائی غذا کہتے ہیں۔
مثلاً:
اناج، دالوں، سبزیوں اور پھلوں سے مختلف طریقوں سے مختلف پکوان بنائے جاتے ہیں۔ بھوننا، اُبالنا، بھاپ میں پکانا اور تلنا وغیرہ غذا میں تنوع پیدا کرتے ہیں۔
غذا کو مختلف ذائقوں اور طریقوں سے تیار کرنے کے فن کو فنِ طباخی کہتے ہیں۔
کسی علاقے کے لوگوں کی روزمرہ غذا، تہواروں اور تقریبات کے کھانے اور کھانے سے متعلق عادات کو غذائی ثقافت کہتے ہیں۔
آج کل باہر کا کھانا، فاسٹ فوڈ اور کم غذائیت والی چیزوں کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور غذا کے ضائع ہونے کا سبب بھی بنتا ہے۔
جسم کی نشوونما، توانائی اور اچھی صحت کے لیے ضروری اجزا کو غذائی اجزا کہتے ہیں۔
| غذائی جزا | اہم کام | اہم ذرائع |
|---|---|---|
| کاربوہائیڈریٹس | توانائی فراہم کرنا | چاول، گیہوں، جوار، باجرا |
| پروٹین | نشوونما اور جسم کی مرمت | دالیں، دودھ، انڈے، سویابین، گوشت |
| چربی | توانائی اور صحت کے لیے ضروری | تیل، گھی، مکھن |
| وٹامن | جسم کو صحت مند رکھنے اور مدافعت میں مدد | پھل، ہری سبزیاں |
| معدنیات | جسم کے اہم افعال؛ ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی | کیلشیم، لوہا وغیرہ |
| پانی | ہاضمہ، جسم کا درجہ حرارت، خون کا بہاؤ اور فضلہ خارج کرنا | پانی اور پانی والی غذائیں |
| ریشے دار مادے | ہاضمے اور فضلہ خارج کرنے میں مدد | پھل، ہری ترکاریاں |
ایسی غذا جس میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، چربی، وٹامن، معدنیات، پانی اور ریشے دار مادے جسم کی ضرورت کے مطابق موجود ہوں، اسے متوازن غذا کہتے ہیں۔
جوار، باجرا، ناچنی (راگی) اور ورئی موٹے اناج کی قسمیں ہیں۔ ان میں پروٹین، وٹامن، معدنیات اور ریشہ دار مادے پائے جاتے ہیں، اس لیے انہیں غذا میں شامل کرنا مفید ہے۔
موسم بدلنے کے ساتھ جسم کی ضروریات بھی بدلتی ہیں۔
موسمی پھل اور سبزیاں غذا میں شامل کرنے سے جسم کو ضروری غذائی اجزا ملتے ہیں۔
فطرت میں ہونے والی تبدیلیوں، غذا اور طرزِ زندگی کے درمیان توازن کو فطری توازن کہتے ہیں۔
غذا میں مناسب مقدار یا ضروری غذائی اجزا کی کمی سے ہونے والی بیماریوں کو غذائی قلت کی بیماریاں کہتے ہیں۔
غذا کے غذائی اجزا محفوظ رکھنے کے لیے:
کھیت سے ہماری رکابی تک غذا پہنچنے میں کسان، مزدور، فروخت کنندہ اور کھانا پکانے والے کئی لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ اس لیے غذا کی قدر کرنی چاہیے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
اہم غذائی اجزا: کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، چربی، وٹامن، معدنیات، پانی اور ریشے دار مادے۔
غذائی قلت → غذائی اجزا کی کمی → مختلف بیماریاں۔