Table of Contents
5 – آفت کا حسن انتظام نوٹس
___________________________________
تعلیمی وسائل –PPT
___________________________________
مشقی سوالات و جوابات
(۱) صحیح یا غلط، وجہ کے ساتھ لکھیے:
(۱) سانپ کے کاٹے ہوئے شخص کو فوراً دوڑاتے ہوئے اسپتال لے جانا چاہیے۔
جواب: غلط۔
وجہ: سانپ کے کاٹے ہوئے شخص کے دوڑنے یا زیادہ ہلچل کرنے سے جسم میں خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے جس سے زہر جسم میں تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس لیے مریض کی ہلچل کم سے کم رکھنی چاہیے اور اسے پرسکون رکھ کر فوراً طبی مرکز یا اسپتال لے جانا چاہیے۔
(۲) لو لگے ہوئے شخص کا جسم ٹھنڈے پانی سے پونچھنا چاہیے۔
جواب: صحیح۔
وجہ: لو لگنے پر جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گیلے یا ٹھنڈے کپڑے سے جسم پونچھنا اور پانی کا ہلکا چھڑکاؤ کرنا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
(۲) درج ذیل حالات کے لیے مناسب طبی امداد تجویز کیجیے۔ اپنا جواب وجہ کے ساتھ لکھیے:
(۱) آپ کے ساتھی کے ہاتھ پر ابلتا ہوا پانی گر گیا۔ اس کا ہاتھ سرخ ہو گیا ہے اور بہت زیادہ درد ہو رہا ہے۔
طبی امداد: متاثرہ ہاتھ پر فوراً صاف اور ٹھنڈا پانی ڈالیں یا ہاتھ کو کچھ دیر ٹھنڈے پانی میں رکھیں، جلی ہوئی جگہ پر مرہم لگائیں اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کو دکھائیں۔
وجہ: ٹھنڈا پانی ڈالنے سے جلن کم ہوتی ہے، جلد کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور جلنے کا اثر جلد کی اندرونی تہوں تک پہنچنے سے رک جاتا ہے۔ نیز جلی ہوئی جلد پر پڑے چھالوں کو پھوڑنا نہیں چاہیے۔
(۲) سڑک پر ایک شخص کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے اور وہ گھبرا کر بھاگنے لگا ہے۔
طبی امداد: اس شخص کو فوراً بھاگنے سے روکیں اور اسے زمین پر لیٹ کر تیزی سے لڑھکنے (Roll کرنے) کی ہدایت دیں۔ اگر ممکن ہو تو اس پر کمبل یا بڑا کپڑا ڈال کر آگ بجھائیں۔
وجہ: بھاگنے سے ہوا ملتی ہے جس کی وجہ سے آگ مزید بھڑکتی ہے۔ زمین پر لڑھکنے یا کمبل اوڑھانے سے آکسیجن کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے اور آگ جلدی بجھ جاتی ہے۔
(۳) گاؤں کے بہت زیادہ پانی والے کچھ کنوؤں میں پانی اچانک کم ہونے لگا۔ اسی دوران پہلے سے خشک پڑے ہوئے کنوؤں میں پانی بڑھنے لگا۔ سمیر کو لگا یہ معجزہ ہے جبکہ پروین کو لگا یہ زلزلے کی وجہ سے ہونے والی زیر زمین ہلچل کی وجہ سے ہے۔ آپ کس سے اتفاق کرتے ہیں؟ وجہ کے ساتھ لکھیے۔
جواب: ہم پروین کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
وجہ: زلزلے کے دوران زمین کی اندرونی تہوں اور چٹانوں میں شدید ہلچل ہوتی ہے۔ اس زیر زمین لرزش کی وجہ سے زیر زمین پانی کے راستے اور جھرنے بدل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ کنوؤں کا پانی اچانک کم ہو جاتا ہے اور کچھ خشک کنوؤں میں پانی کا سطح بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی سائنسی عمل ہے، کوئی معجزہ نہیں۔
(۴) درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیے:
(۱) زلزلے کی وجہ سے انسانی زندگی پر کون کون سے اثرات ہوتے ہیں؟
جواب: زلزلے کی وجہ سے انسانی زندگی پر مندرجہ ذیل شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں:
۱. کئی مکانات اور عمارتیں گر جاتی ہیں جس سے لوگ بے گھر اور ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں۔
۲. سڑکیں، پل اور ریل کی پٹڑیاں تباہ ہو جاتی ہیں جس سے امدادی کاموں اور آمد و رفت میں شدید رکاوٹ آتی ہے۔
۳. بجلی کے کھمبے اور زیر زمین کیبل ٹوٹ جاتے ہیں جس سے بجلی کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے۔
۴. زیر زمین پانی کے پائپ لائن ٹوٹ جاتے ہیں اور پانی کے جھرنے بدلنے سے پینے کے پانی کی شدید قلت ہو جاتی ہے۔
۵. دریاؤں کے راستے بدلنے سے کچھ حصوں میں سیلاب اور کچھ حصوں میں خشک سالی جیسی دوہری آفت آ جاتی ہے۔
(۲) جنگ کے مضر اثرات لکھیے۔
جواب: جنگ کے مندرجہ ذیل ہولناک اثرات ہوتے ہیں:
۱. بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور املاک کی تباہی ہوتی ہے۔
۲. بم دھماکوں سے عمارتیں گر جاتی ہیں، آگ لگتی ہے اور پانی کے ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں۔
۳. ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی (ہجرت) کرنی پڑتی ہے۔
۴. زراعت تباہ ہو جاتی ہے اور علاج و طبی امداد ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔
۵. زہریلی گیسوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے آلودگی بڑھتی ہے اور لوگوں میں خوف و ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
(۳) نامعلوم نمبر سے فون آیا اور OTP کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ کیا کریں گے؟
جواب:
۱. ہم کسی بھی نامعلوم شخص کو اپنا OTP (ون ٹائم پاس ورڈ) یا کوئی بھی ذاتی معلومات ہرگز نہیں بتائیں گے۔
۲. فون کال فوراً کاٹ دیں گے۔
۳. اپنے والدین یا بڑوں کو اس کی اطلاع دیں گے اور ضرورت پڑنے پر سائبر ہیلپ لائن پر اس نمبر کی شکایت درج کرائیں گے۔
وجہ: یہ سائبر جرم (فشنگ / مالی دھوکہ دہی) کی ایک قسم ہے جہاں دھوکے سے OTP حاصل کر کے بینک اکاؤنٹ یا ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
(۵) آگ سے جلنے والے حادثے میں مریض کی جلے ہوئے کپڑے کھینچ کر نکالنے میں کیا خطرات ہیں؟ اس کی معلومات حاصل کیجیے اور لکھیے۔
جواب: آگ سے جلنے کی صورت میں کپڑے جلی ہوئی جلد کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ اگر ان کپڑوں کو زبردستی کھینچ کر نکالا جائے تو مندرجہ ذیل خطرات لاحق ہوتے ہیں:
۱. جلی ہوئی جلد کپڑوں کے ساتھ اکھڑ سکتی ہے، جس سے زخم مزید گہرا اور شدید ہو جاتا ہے۔
۲. مریض کو شدید تکلیف اور صدمہ (Shock) پہنچتا ہے۔
۳. جلد اکھڑنے کی وجہ سے شدید خون بہنے کا خطرہ رہتا ہے۔
۴. کھلے زخم کی وجہ سے جراثیمی انفیکشن (Infection) کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
نتیجہ: اس لیے جلے ہوئے حصے سے چپکے کپڑوں کو کبھی کھینچ کر نہیں نکالنا چاہیے بلکہ صرف آس پاس کے نہ چپکے ہوئے کپڑوں کو احتیاط سے کاٹ کر الگ کر دینا چاہیے۔
(۶) بڑے حادثے، آگ یا دریا کا سیلاب جیسی آفت کی جگہ پر صرف تماشائی بننا، ویڈیو بنانا یا فوٹو کھینچنے کے لیے بھیڑ کیوں نہیں کرنی چاہیے؟
جواب: آفت کی جگہ پر بھیڑ نہ کرنے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
۱. امدادی کاموں میں رکاوٹ: بھیڑ کی وجہ سے ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو حادثے کے مقام تک بروقت پہنچنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔
۲. جانی نقصان کا خطرہ: بھیڑ کی وجہ سے زخمیوں کو فوری طبی امداد ملنے میں تاخیر ہو جاتی ہے جو ان کی جان کے لیے لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
۳. خود کی حفاظت: سیلاب، آگ یا عمارت گرنے کی جگہ پر مزید حادثات کا خطرہ رہتا ہے، جس سے تماشائیوں کی اپنی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
۴. اخلاقی ذمہ داری: مصیبت میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کی ویڈیو یا فوٹو بنانا انسانیت کے خلاف ہے۔
(۷) ریل گاڑی یا موٹر گاڑی کے حادثے کے وقت ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟ اہم نکات لکھیے۔
جواب: حادثے کے وقت ہم مندرجہ ذیل طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں:
۱. ہنگامی نمبروں پر رابطہ: فوراً ۱۰۰ (پولیس)، ۱۰۲/۱۰۸ (ایمبولینس) اور ۱۰۱ (آتش فرو عملہ) پر فون کر کے حادثے کی اطلاع دیں۔
۲. ابتدائی طبی امداد: زخمیوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کر کے ان کا خون بہنے سے روکنے کے لیے صاف کپڑے سے دباؤ ڈالیں اور ابتدائی طبی امداد دیں۔
۳. راستہ ہموار کرنا: ایمبولینس اور امدادی گاڑیوں کے لیے راستہ صاف کرائیں اور بھیڑ نہ ہونے دیں۔
۴. ذہنی و نفسیاتی سہارا: گھبرائے ہوئے مسافروں کو تسلی دیں اور ان کی ہمت بندھائیں۔
(۸) آرام دہ سفر کے لیے آج کل اے سی بسیں، اور ریل گاڑیاں دستیاب ہیں۔ ان کی کھڑکیوں کے شیشے بڑے ہوتے ہیں مگر وہ ہمیشہ مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسی گاڑیوں میں نمایاں مقام پر ایک بڑا ہتھوڑا رکھا ہوتا ہے۔ وہ کس لیے ہوتا ہے؟
جواب:
کھڑکیوں کے شیشے بند رہنے کی وجہ: اے سی بسوں اور ریل گاڑیوں میں اندرونی ٹھنڈک (درجہ حرارت) کو برقرار رکھنے، باہر کی دھول، شور اور ہوا کے دباؤ کو روکنے کے لیے کھڑکیوں کے شیشے مکمل طور پر بند رکھے جاتے ہیں۔
ہتھوڑا رکھے ہونے کا مقصد: کسی ناگہانی حادثے، آگ لگنے یا ہنگامی صورت حال میں اگر گاڑی کے دروازے جام ہو جائیں، تو کھڑکیوں کے مضبوط شیشوں کو اس ہتھوڑے کی مدد سے توڑ کر مسافروں کو فوراً باہر نکالنے اور ان کی جان بچانے کے لیے یہ ہتھوڑا رکھا جاتا ہے۔
(۹) آفت سے متعلق چند الفاظ ذیل کے معمے میں چھپے ہوئے ہیں۔ ایسے الفاظ کی شناخت کر کے انھیں بیاض میں لکھیے:
جواب:
معمے میں سے شناختی الفاظ کی فہرست درج ذیل ہے:
۱. آفت
۲. زلزلہ
۳. سیلاب
۴. طوفان
۵. حادثہ
۶. حسن انتظام
۷. لو
۸. آگ
۹. جنگ
___________________________________
کوئز —Quiz
"کیا آپ نے سبق سمجھ لیا ہے؟ چلیں ایک کوئز دے کر چیک کرتے ہیں۔”











