Table of Contents
جماعت ہفتم سائنس سبق 6: طبعی مقداروں کی پیمائش
1. ذیل کے سوالوں کے جواب اپنے الفاظ میں لکھیے۔
الف۔ ہر سیارے پر ایک ہی چیز کا وزن مختلف کیوں ہوتا ہے؟
جواب: کسی بھی چیز کا وزن اس سیارے کی ثقلی قوت (کشش) پر منحصر ہوتا ہے۔ ہر سیارے کی ثقلی قوت مختلف ہوتی ہے، جیسے چاند کی ثقلی قوت زمین سے کم ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی چیز کا وزن ہر سیارے پر الگ الگ ہوتا ہے۔ جب کہ اس چیز کی کمیت (اس میں موجود مادے کی مقدار) ہر جگہ ایک جیسی رہتی ہے۔
ب۔ روز مرہ زندگی میں صحیح پیمائش کے لیے آپ کس بات کا خیال رکھیں گے؟
جواب: روزمرہ زندگی میں صحیح پیمائش کے لیے ہم مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں گے:
-
ہمیشہ مناسب اور معیاری آلات کا استعمال کریں گے۔
-
آلات کو صحیح طریقے سے استعمال کریں گے۔
-
دکان سے سامان خریدتے وقت، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ترازو ایک مستحکم سطح پر رکھا ہو اور اس کا کانٹا سیدھا ہو۔
-
ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ترازو پر سرکاری محکمے کی مہر لگی ہوئی ہے یا نہیں۔
ج۔ کمیت اور وزن میں کیا فرق ہے؟
جواب: کمیت اور وزن میں بنیادی فرق یہ ہے:
-
کمیت (Mass): کسی شے میں موجود مادے کی کل مقدار کو کمیت کہتے ہیں۔ یہ ایک غیر سمتی مقدار ہے اور دنیا میں یا کسی بھی سیارے پر تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کی اکائی گرام یا کلوگرام ہے۔
-
وزن (Weight): کسی شے پر عمل کرنے والی ثقلی قوت (کشش) کو وزن کہتے ہیں۔ یہ ایک سمتی مقدار ہے اور اس کی سمت زمین کے مرکز کی طرف ہوتی ہے۔ وزن جگہ کے بدلنے سے بدل جاتا ہے کیونکہ ثقلی قوت ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔
2. بتائیے میں کس کے ساتھ جوڑی بناؤں؟
| ستون الف | ستون ب |
| رفتار | میٹر/سیکنڈ |
| رقبہ | مربع میٹر |
| حجم | لٹر |
| کمیت | کلوگرام |
| کثافت | کلوگرام / مکعب میٹر |
3. مثالوں کے ذریعے وضاحت کیجیے۔
الف۔ غیر سمتی مقدار
جواب: وہ طبعی مقداریں جن کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے صرف ان کی قدر (Magnitude) بتانا کافی ہوتا ہے، غیر سمتی مقداریں کہلاتی ہیں۔ ان کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔|
مثالیں: کمیت (جیسے 5 کلوگرام چینی)، فاصلہ (جیسے 2 کلومیٹر سڑک)، درجہ حرارت، اور وقت وغیرہ۔
ب۔ سمتی مقدار
جواب: وہ طبعی مقداریں جن کو مکمل طور پر بیان کرنے کے لیے ان کی قدر (Magnitude) کے ساتھ ساتھ ان کی سمت (Direction) بتانا بھی ضروری ہوتا ہے، سمتی مقداریں کہلاتی ہیں۔
مثال: وزن ایک سمتی مقدار ہے کیونکہ اس کی ایک قدر ہوتی ہے اور اس کی سمت ہمیشہ سیارے کے مرکز کی جانب ہوتی ہے۔
4. پیمائش میں ہونے والی غلطیاں مثالوں کے ذریعے سمجھائیے۔
جواب: پیمائش میں غلطیاں عام طور پر دو وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں:
-
مناسب آلات کا استعمال نہ کرنا: مثال کے طور پر، اگر کوئی سنار سونے جیسی قیمتی چیز کو سبزی تولنے والے ترازو سے تولے گا تو پیمائش غلط ہوگی کیونکہ سونے کو تولنے کے لیے زیادہ حساس اور درست ترازو کی ضرورت ہوتی ہے۔
-
آلات کا صحیح طریقے سے استعمال نہ کرنا: مثال کے طور پر، اگر کوئی دکاندار ترازو کو ہاتھ میں لٹکا کر ایک طرف جھکا کر سامان تولے، یا ترازو کا کانٹا پہلے سے صفر پر نہ ہو، تو اس سے پیمائش میں غلطی ہوگی اور گاہک کو کم سامان ملے گا۔
5. وجوہات بتائیے۔
الف۔ جسمانی اعضا کا استعمال کر کے پیمائش کرنا مناسب نہیں۔
جواب: جسمانی اعضا جیسے ہاتھ یا بالشت کا استعمال کرکے پیمائش کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ہر انسان کے جسمانی اعضا کی لمبائی مختلف ہوتی ہے۔ اگر ایک ہی کپڑے کو دو مختلف لوگ اپنے اپنے ہاتھ سے ناپیں گے تو دونوں کی پیمائش میں فرق آئے گا۔ اس لیے پیمائش میں یکسانیت اور درستی لانے کے لیے معیاری اکائیوں جیسے میٹر کا استعمال ضروری ہے۔
ب۔ مقررہ وقفے کے بعد وزن اور پیمائشی آلات کی تصدیق کروانا ضروری ہے۔
جواب: وزن اور پیمائشی آلات کی مقررہ وقفے کے بعد تصدیق کروانا بہت ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحیح پیمائش کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یا مسلسل استعمال سے آلات میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے یا کچھ لوگ جان بوجھ کر ان میں تبدیلی کر دیتے ہیں تاکہ گاہکوں کو دھوکہ دے سکیں۔ سرکاری محکمے سے تصدیق کروانے سے پیمائش کی درستی کو یقینی بنایا جاتا ہے اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔
6. صحیح پیمائش کی ضرورت اور اس کے لیے استعمال کیے جانے والے آلات کون سے ہیں؟ واضح کیجیے۔
جواب:صحیح پیمائش کی ضرورت:
صحیح پیمائش کی ضرورت زندگی کے ہر شعبے میں ہوتی ہے، خاص طور پر سائنس، تجارت، صحت اور ٹیکنالوجی میں۔ پیمائش کتنی صحیح ہونی چاہیے اس کا انحصار اس کے مقصد پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، قیمتی اشیاء جیسے سونا، اہم ادویات کی مقدار، یا کھیلوں کے مقابلوں میں وقت اور فاصلے کی پیمائش میں انتہائی درستی کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں معمولی غلطی کے بھی بڑے نتائج ہو سکتے ہیں۔
استعمال کیے جانے والے آلات:
پیمائش کے لیے مختلف قسم کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ کچھ عام آلات یہ ہیں:
-
لمبائی کے لیے: میٹر کا پیمانہ، پیمائشی فیتہ (Measuring Tape)۔
-
کمیت کے لیے: دو پلڑوں والا ترازو، الیکٹرانک ترازو۔
-
وقت کے لیے: گھڑی، اسٹاپ واچ، اور انتہائی درست پیمائش کے لیے جوہری گھڑی (Atomic Clock)۔
-
درجہ حرارت کے لیے: تھرما میٹر۔











