Table of Contents
جماعت ہفتم سائنس سبق 5 : غذائی اجزا کی حفاظت
1. دیے ہوئے متبادل سے مناسب لفظ چن کر بیان مکمل کیجیے۔
(شعاع پاشی، خشک کرنا، پاسچرانا، قدرتی تحفظی شے، کیمیائی حفظی شے)
الف۔ کھیت کا اناج دھوپ میں سکھانے کو خشک کرنا کہتے ہیں۔
ب۔دودھ اور اسی قسم کی اشیا مخصوص درجہ حرارت پر گرم کر کے فوراً ٹھنڈا کرتے ہیں۔ غذا کے اس طریقے سے تحفظ کو پاسچرانا کہتے ہیں۔
ج۔ نمک قدرتی قسم کی تحفظی شے ہے۔
د۔ سرکہ کیمیائی قسم کی تحفظی شے ہے۔
2. ذیل کے سوالوں کے جواب اپنے الفاظ میں لکھیے۔
الف۔ دودھ کا پاسچرائزیشن کس طرح کرتے ہیں؟
جواب: دودھ کو پاسچرائز کرنے کے لیے، اسے ایک مخصوص درجہ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر 80 ڈگری سیلسیس پر 15 منٹ تک، اور پھر اسے فوراً ٹھنڈا کر لیا جاتا ہے۔ اس عمل سے دودھ میں موجود خوردبینی جاندار ختم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دودھ زیادہ عرصے تک خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔
ب۔ ملاوٹی غذا کیوں نہیں کھانا چاہیے؟
جواب: ملاوٹی غذا نہیں کھانی چاہیے کیونکہ اس سے ہماری صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ملاوٹی اشیا کے استعمال سے پیٹ کی بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی غذا طویل عرصے تک استعمال کی جائے تو یہ جسم کے مختلف اعضا کے کام پر برا اثر ڈال سکتی ہے اور کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ج۔ گھر میں غذا کی حفاظت کے لیے آپ کے والدین کیا احتیاط کرتے ہیں؟
جواب: گھر میں غذا کی حفاظت کے لیے والدین مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں:
-
پھل، ترکاریاں اور دودھ جیسی جلد خراب ہونے والی چیزوں کو ریفریجریٹر میں رکھتے ہیں۔
-
اناج اور دالوں کو نمی سے بچا کر خشک جگہ پر مناسب طریقے سے ذخیرہ کرتے ہیں۔
-
بچے ہوئے کھانے کو پھینکنے کے بجائے اسے صحیح طریقے سے دوبارہ استعمال میں لاتے ہیں۔
-
صرف ضرورت کے مطابق ہی پھل اور سبزیاں خریدتے ہیں تاکہ وہ خراب نہ ہوں۔
-
ہوا بند ڈبوں میں محفوظ کی گئی غذاؤں کی استعمال کی مدت (expiry date) دیکھ کر خریدتے ہیں۔
د۔ غذا کیوں خراب ہوتی ہے؟ غذا میں خرابی پیدا کرنے والی مختلف چیزیں کون سی ہیں؟
جواب: غذا مختلف وجوہات کی بنا پر خراب ہوتی ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:
-
اندرونی عوامل: کچھ پھلوں اور سبزیوں میں موجود اجزا کی وجہ سے وہ اندر سے ہی خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
-
خوردبینی جاندار: ہوا، پانی اور زمین میں موجود خوردبینی جاندار یا کیڑے جب غذا میں داخل ہو جاتے ہیں تو اسے خراب کر دیتے ہیں۔
-
کیمیائی تعامل: جب غذائی اشیا دھات کے برتنوں کے ساتھ ملتی ہیں تو کیمیائی عمل کے ذریعے خراب ہو جاتی ہیں۔
-
نامناسب حالات: غذا کو زیادہ پکانے، نم جگہ پر رکھنے، اور غلط طریقے سے ذخیرہ کرنے یا نقل و حمل کی وجہ سے بھی اس کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔
غذا میں خرابی پیدا کرنے والے عوامل میں پھپھوند، کیڑے، خوردبینی جاندار، نمی، حرارت اور ہوا شامل ہیں۔
ہ۔ غذا کے تحفظ کے لیے آپ کون سا طریقہ اختیار کریں گے؟
جواب: غذا کے تحفظ کے لیے غذا کی قسم کے مطابق مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
-
سرد کرنا (Refrigeration): دودھ، پھل، سبزیاں اور پکا ہوا کھانا محفوظ رکھنے کے لیے انہیں ریفریجریٹر میں رکھا جائے گا۔
-
خشک کرنا (Drying): اناج، دالیں اور مسالوں کو دھوپ میں اچھی طرح سکھا کر نمی سے بچایا جائے گا تاکہ وہ طویل عرصے تک محفوظ رہیں۔
-
قدرتی تحفظی اشیا کا استعمال: نمک، شکر اور تیل کا استعمال کر کے اچار، مربے اور جیلی بنا کر پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کیا جائے گا۔
-
ہوا بند ڈبوں کا استعمال: اشیا کو ہوا بند ڈبوں میں رکھا جائے گا تاکہ ان میں خوردبینی جانداروں کی افزائش کو روکا جا سکے۔
3. کیا کریں بھلا!
الف۔ کئی حلوائی بازار میں کھلی مٹھائیاں بیچتے ہیں۔
جواب: بازار میں کھلی ہوئی مٹھائیاں نہیں خریدنی چاہئیں کیونکہ ان پر دھول، مٹی اور مکھیاں بیٹھتی ہیں جس سے ان میں جراثیم شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی مٹھائیاں کھانے سے بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔
ب۔ پانی پوری بیچنے والے گندے ہاتھوں ہی سے پانی پوری بناتے ہیں۔
جواب: اگر پانی پوری بیچنے والے کے ہاتھ گندے ہوں تو اس سے پانی پوری ہرگز نہیں کھانی چاہیے۔ گندے ہاتھوں سے جراثیم غذا میں منتقل ہو جاتے ہیں جو پیٹ کی بیماریوں اور انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
ج۔ بازار سے بہت زیادہ مقدار میں ترکاریاں، پھل لائے گئے ہیں۔
جواب: اگر بازار سے زیادہ مقدار میں پھل اور سبزیاں آ گئی ہیں تو انہیں ضائع ہونے سے بچانے کے لیے صحیح طریقے سے ذخیرہ کرنا چاہیے۔ کچھ سبزیوں اور پھلوں کو ریفریجریٹر میں رکھنا چاہیے اور جو جلد استعمال نہ ہو سکیں ان کا اچار یا مربہ بنا کر محفوظ کر لینا چاہیے۔
د۔ چوہے، جھینگر، چھپکلی سے غذا کی حفاظت کرنا ہے۔
جواب: چوہے، جھینگر اور چھپکلی سے غذا کی حفاظت کے لیے غذائی اشیا کو ہمیشہ ڈھانپ کر اور بند ڈبوں یا الماریوں میں رکھنا چاہیے۔ باورچی خانے کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے تاکہ یہ کیڑے مکوڑے وہاں نہ آئیں۔
4. ہم میں کون مختلف ہے، پہچانیے۔
الف۔ نمک، سرکہ، سائٹرک ایسڈ، سوڈیم بینزوئٹ
جواب: نمک (یہ قدرتی تحفظی شے ہے جبکہ باقی کیمیائی تحفظی اشیا ہیں)۔
ب۔ لاکھ کی دال، اینٹوں کا سفوف، میٹانل یلو، ہلدی کا سفوف
جواب: ہلدی کا سفوف (یہ ایک غذائی شے ہے جبکہ باقی ملاوٹ کے لیے استعمال ہونے والی اشیا ہیں)۔
ج۔ کیلا، سیب، امرود، بادام
جواب: بادام (یہ خشک میوہ ہے جبکہ باقی تازہ پھل ہیں)۔
د۔ ذخیرہ کرنا، سرد کرنا، چننا، خشک کرنا
جواب: چننا (یہ کھانا پکانے سے پہلے کی تیاری کا حصہ ہے جبکہ باقی غذا کو محفوظ کرنے کے طریقے ہیں)۔
6. ایسا کیوں ہوتا ہے یہ لکھ کر اس کے لیے کیا تدابیر کی جاسکتی ہیں، بتائیے۔
الف۔ بلحاظ معیار غذا کی بربادی ہوتی ہے۔
وجہ: ایسا غذا کی حفاظت کے غلط طریقے استعمال کرنے، غذا کو بہت دیر تک پکانے، سبزیوں کو کاٹنے کے بعد دھونے اور پھلوں وغیرہ کی نامناسب نقل و حمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان عوامل سے غذا کے تغذیاتی اجزا ضائع ہو جاتے ہیں۔
تدابیر: غذا کو زیادہ پکانے سے گریز کریں، سبزیوں کو دھونے کے بعد کاٹیں، اور غذا کو محفوظ کرنے اور نقل و حمل کے لیے صحیح طریقے استعمال کریں۔
ب۔ پکے ہوئے چاول کچے محسوس ہورہے ہیں۔
وجہ: ایسا عام طور پر چاول پکاتے وقت پانی کی مقدار کم رکھنے یا انہیں مناسب وقت تک نہ پکانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تدابیر: چاولوں میں تھوڑا گرم پانی ڈال کر انہیں ڈھک کر ہلکی آنچ پر کچھ دیر کے لیے دم پر رکھ دیں تاکہ وہ نرم ہو جائیں۔
ج۔ بازار سے لائے ہوئے گیہوں کسی قدر گیلے ہیں۔
وجہ: ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ذخیرہ کرنے یا نقل و حمل کے دوران گیہوں کو نمی والی جگہ پر رکھا گیا ہو گا، جس کی وجہ سے اس نے نمی جذب کر لی ہے۔
تدابیر: گیہوں کو فوری طور پر کسی صاف کپڑے پر پھیلا کر تیز دھوپ میں سکھانا چاہیے تاکہ اس میں پھپھوند نہ لگے اور وہ خراب ہونے سے بچ جائے۔
د۔ دہی کا ذائقہ کھٹا کسی قدر کڑوا محسوس ہو رہا ہے۔
وجہ: دہی کو مناسب ٹھنڈی جگہ پر نہ رکھنے کی وجہ سے اس میں موجود بیکٹیریا کی افزائش بہت زیادہ ہو جاتی ہے، جس سے اس کا ذائقہ بہت کھٹا اور کڑوا ہو جاتا ہے، جو اس کے خراب ہونے کی علامت ہے۔
تدابیر: ایسی دہی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ دہی کو ہمیشہ ریفریجریٹر میں رکھنا چاہیے اور اسے زیادہ دن تک رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ہ۔ کافی وقت پہلے کاٹے ہوئے پھل سیاہ پڑ گئے ہیں۔
وجہ: پھلوں کو کاٹنے کے بعد جب ان کا اندرونی حصہ ہوا کے ساتھ ملتا ہے تو ایک کیمیائی عمل (Oxidation) ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے۔
تدابیر: پھلوں کو کھانے سے فوراً پہلے کاٹنا چاہیے۔ اگر انہیں پہلے کاٹ کر رکھنا ہو تو ان پر لیموں کا رس لگا دیں یا انہیں ہوا بند ڈبے میں رکھیں تاکہ ان کا رنگ تبدیل نہ ہو۔
وجوہات لکھیے۔
الف۔ 5° سیلسیس درجہ حرارت پر غذائی اشیا محفوظ رہتی ہیں؟
جواب: 5° سیلسیس جیسے کم درجہ حرارت پر غذائی اشیا میں موجود خوردبینی جانداروں کی افزائش کی رفتار بہت سست ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، کم درجہ حرارت پر غذا میں ہونے والے حیاتیاتی اور کیمیائی تعاملات بھی سست پڑ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غذا زیادہ دیر تک خراب ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔
ب۔ آج کل بڑی تقاریب میں کھانے کے لیے اکثر بفے طریقہ استعمال کرتے ہیں۔
جواب: بڑی تقاریب میں بفے طریقہ اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے مہمانوں کو اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق کھانا لینے میں آسانی ہوتی ہے، جس سے غذا کی مقداری بربادی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ میزبانوں کے لیے بھی سہولت بخش ہوتا ہے کیونکہ اس میں کم عملے کی ضرورت پڑتی ہے اور ایک ہی وقت میں بہت سے مہمانوں کو کھانا پیش کیا جا سکتا ہے۔











