جماعت ششم سائنس سبق 1: جانداروں کی خصوصیات

Telegram
Facebook
WhatsApp
Maharashtra Board Urdu Medium - Class 6 Science - Jandaron ki Khususiyat - Questions and Answers

1: جانداروں کی خصوصیات نوٹس

___________________________________

تعلیمی وسائل –PPT

 



___________________________________

مشقی سوالات و جوابات

 

(1) خالی جگہوں میں درست الفاظ لکھیے۔
(۱) ہر جاندار اپنے جیسا جاندار پیدا کرتا ہے۔ اسے افزائش نسل کہتے ہیں۔

(۲) بالیدگی، حساسیت، اخراج، تنفس، تولید اور حرکت جانداروں کی اہم خصوصیات ہیں۔

(۳) غذا کی وجہ سے ہونے والی جانداروں کی نشو و نما اور بالیدگی کو جانداروں کی پرورش کہتے ہیں۔

(۴) جانداروں کا جسم خلیات سے بنا ہوتا ہے۔

(۲) پرندے، مچھلیاں، حیوانات حرکت کر کے خود اپنی جگہ بدل سکتے ہیں۔ خشک پتے ، ٹریکٹر، بیل گاڑی جیسی گاڑیاں بھی اپنی جگہ بدل سکتی ہیں۔ ان دونوں قسم کی حرکات میں اہم فرق کیا ہے؟
جواب: جاندار (جیسے پرندے، مچھلیاں اور حیوانات) غذا حاصل کرنے، تحفظ پانے اور پناہ گاہ کی تلاش کے لیے اپنی مرضی اور اندرونی توانائی سے حرکت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر جاندار (جیسے خشک پتے، ٹریکٹر اور بیل گاڑی) خود سے حرکت نہیں کر سکتے، انہیں حرکت کرنے کے لیے بیرونی قوت (جیسے ہوا کا دباؤ، انسان یا ایندھن) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ان کی حرکات کے درمیان اہم ترین فرق ہے۔

(۳) کئی بیماریوں کے جراثیم انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں۔ وہ اتنے مہین ہوتے ہیں کہ صرف آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے ۔ کیا اتنے چھوٹے جانداروں میں افزائش نسل ہوتی ہوگی ؟ آپ کو کیا لگتا ہے؟ یہ کس بنیاد پر طے کیا، بتائیے۔
جواب: جی ہاں، ان انتہائی چھوٹے (خرد بینی) جراثیم میں بھی افزائش نسل ہوتی ہے۔ ہم نے سبق میں پڑھا ہے کہ "ہر جاندار اپنے جیسے جانداروں کو جنم دیتا ہے” جسے افزائش نسل کہتے ہیں اور یہ تمام جانداروں کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ چونکہ جراثیم بھی جاندار ہیں، اس لیے وہ بھی افزائش نسل کرتے ہیں، چاہے وہ اتنے چھوٹے ہوں کہ آنکھ سے نظر نہ آئیں۔ اسی افزائش نسل کی وجہ سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

(۴) جانداروں کو اپنے آس پاس کے حالات کا احساس ہوتا ہے۔ اسے چوہا، بلی، کتا وغیرہ کے برتاؤ سے واضح کیجیے۔ مختلف مواقع پر وہ کیسا برتاؤ کرتے ہیں، اپنے تجربات اور مشاہدات لکھیے۔
جواب: جانداروں کو اپنے ماحول کا احساس ہوتا ہے جسے ‘حساسیت’ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کتے کی طرف اگر بسکٹ اچھالا جائے تو وہ فوراً چھلانگ لگا کر اسے پکڑ لیتا ہے اور کسی اجنبی کو دیکھ کر بھونکتا ہے۔ اسی طرح، بلی خطرہ محسوس ہوتے ہی چوکس ہو جاتی ہے، اور اگر چوہا کسی بلی کو دیکھ لے تو وہ خطرے کا احساس ہوتے ہی فوراً اپنے بل میں چھپنے کے لیے بھاگتا ہے۔ یہ برتاؤ ثابت کرتا ہے کہ جاندار اپنے آس پاس کے حالات (محرک) پر فوری ردعمل (جوابی عمل) ظاہر کرتے ہیں۔

(۵) جانداروں کی حرکات کی قسمیں جو آپ کو یاد ہوں اور اس قسم کی حرکات کرنے والے حیوانات کی فہرست بنائیے۔
جواب:

حرکت کی قسم حیوانات کی مثالیں
چلنا اور دوڑنا انسان، کتا، بلی، گائے
اڑنا کبوتر، چڑیا، طوطا، تتلی
تیرنا مچھلیاں، کچھوا، مینڈک
رینگنا سانپ، کیچوا
چھلانگ لگانا مینڈک، کینگرو

(6) پودوں میں حساسیت ہوتی ہے، یہ جس بات سے سمجھ میں آتا ہے، اپنے مشاہدات اور تجربات لکھیے۔
جواب: پودوں میں بھی حساسیت پائی جاتی ہے، جس کا اندازہ ان کی حرکات سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پودوں کی جڑیں ہمیشہ نمی (پانی) کی جانب بڑھتی ہیں اور شاخیں اس سمت میں زیادہ بڑھتی ہیں جہاں سے سورج کی روشنی آ رہی ہو۔ اس کے علاوہ بعض پودوں کے پتے رات کا اندھیرا ہونے پر ہاتھ جوڑنے کے انداز میں بند ہو جاتے ہیں اور سورج نکلتے ہی دوبارہ کھل جاتے ہیں۔ کنول کی کلیاں بھی سورج نکلنے پر کھلتی ہیں۔ یہ سب پودوں کی حساسیت کے واضح ثبوت ہیں۔

(۷) کچھوے کافی وقت پانی میں رہتے ہیں۔ وقفے وقفے سے وہ پانی کی سطح پر آکر اپنا سر پانی سے باہر کیوں نکالتے ہیں ہیں؟ کچھ مچھلیاں ایسا نہیں کرتیں، کیوں؟
جواب: کچھوے ناک اور پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتے ہیں، اس لیے انہیں ہوا سے آکسیجن حاصل کرنے کے لیے وقفے وقفے سے پانی کی سطح پر آکر سر باہر نکالنا پڑتا ہے۔ جبکہ مچھلیوں میں سانس لینے کے لیے ناک یا پھیپھڑے نہیں ہوتے، بلکہ ان میں گلپھڑے (Gills) پائے جاتے ہیں۔ گلپھڑوں کی مدد سے مچھلیاں پانی میں حل شدہ آکسیجن کو براہ راست حاصل کر لیتی ہیں، اس لیے انہیں سانس لینے کے لیے پانی سے باہر آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

(۸) نیچے مینڈک کا دور حیات بے ترتیب ہے۔ خانوں میں صحیح ترتیبی نمبر لکھیے۔
جواب: مینڈک کے دور حیات کی صحیح ترتیب درج ذیل ہے:

ترتیبی نمبر مرحلہ
۱ انڈے (پانی میں پودوں کی شاخوں پر جھاگ جیسے گچھے)
۲ لاروا (انڈوں سے باہر آنے والے لمبے بچے جو گلپھڑوں سے سانس لیتے ہیں)
۳ پیر اور دم والا مرحلہ (جس میں پیچھے کے دو پیر اور دم ہوتی ہے)
۴ مینڈک (مکمل شکل جس میں جسم مینڈک جیسا بن جاتا ہے)

(9) جاندار اور غیر جاندار کی علامات کی بنیاد پر درج ذیل مثالوں کی جاندار اور غیر جاندار میں درجہ بندی کیجیے۔ ( پتھر، تتلی ، سائیکل ، کتاب، مچھلی ، ہوا، درخت، پتنگ، بس )
جواب:

جاندار اشیاء غیر جاندار اشیاء
تتلی، مچھلی، درخت پتھر، سائیکل، کتاب، ہوا، پتنگ، بس

(۱۰) درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیے۔
(الف) قحط کے دوران پیٹ بھر چارہ اور پانی نہ ملنے سے جانوروں پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟
جواب: غذا اور پانی ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے جس سے انہیں توانائی ملتی ہے اور ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ قحط کے دوران پیٹ بھر چارہ اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے جانوروں کو درکار توانائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس کے نتیجے میں ان کے جسم کی نشوونما اور بالیدگی رک جاتی ہے، وہ انتہائی کمزور ہو جاتے ہیں، اور اگر یہ صورتحال مسلسل برقرار رہے تو ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

(ب) شیر کا بچہ بڑا ہوتا ہے۔ کیا اس کی بھی بالیدگی ہوتی ہے؟ اس بیان کی وضاحت کیجیے۔
جواب: جی ہاں، شیر کے بچے کی بھی بالیدگی (Growth) ہوتی ہے۔ سبق کے مطابق جانداروں کی نشوونما کا مطلب ان کی جسامت، قد اور وزن میں اضافہ ہونا ہے۔ شیر کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ چھوٹا ہوتا ہے، لیکن مناسب غذا حاصل کرنے سے اسے توانائی ملتی ہے اور اس کی جسامت، قد اور وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران وہ چلنے، دوڑنے اور شکار کرنے کی مہارتیں بھی حاصل کرتا ہے۔ اس کی جسامت، کارکردگی اور ہنر میں ہونے والی یہ تمام تر نشوونما اور ترقی ہی اس کی بالیدگی اور پرورش کہلاتی ہے۔

 

___________________________________

کوئز   —Quiz

"کیا آپ نے سبق سمجھ لیا ہے؟ چلیں ایک کوئز دے کر چیک کرتے ہیں۔”

 
Telegram
Facebook
WhatsApp

سبق کی آسان وضاحت اور پاورپوائنٹ پریزنٹیشن (PPT)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔