Table of Contents
6: اشیا کی خصوصیات نوٹس
___________________________________
تعلیمی وسائل –PPT
___________________________________
مشقی سوالات و جوابات
(۱) مناسب متبادل کا انتخاب کر کے خالی جگہ پر کیجیے۔
(۱) برف پانی کی ٹھوس حالت ہے۔
(۲) غیر شفاف اشیا پر روشنی کی کرن پڑنے پر روشنی آر پار نہیں جاتی۔
(۳) تیل پانی پر تیرتا ہے یعنی تیل کی کثافت پانی سے کم ہے۔
(۲) ذیل کے کون سے بیانات ترتیب وار ٹھوس اور گیسی حالت بتاتے ہیں؟
(۱) ذرات میں فاصلہ کم اور قوت کشش زیادہ
(۲) ذرات میں فاصلہ اوسط اور قوت کشش تھوڑی کم
(۳) ذرات میں فاصلہ سب سے زیادہ اور قوت کشش سب سے کم
جواب: بیان (۱) ‘ٹھوس حالت’ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ٹھوس اشیا میں ذرات ایک دوسرے کے بہت قریب اور مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ بیان (۳) ‘گیسی حالت’ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ گیس میں ذرات ایک دوسرے سے الگ ہو کر دستیاب پوری جگہ پر بکھر جاتے ہیں اور ان میں فاصلہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
(۳) پہلی جوڑی کے تعلق کو دیکھتے ہوئے دوسری جوڑی مکمل کیجیے۔
(۱) شیشہ : شفاف شے :: بٹر پیپر : نیم شفاف شے
(۲) ٹھوس : مخصوص شکل ہوتی ہے :: مائع : جس برتن میں رکھا جائے اسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں
(۴) آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیے۔ اب آئینے پر پھونک مار کر پھر سے اپنا چہرہ دیکھیے۔ کیا فرق دکھائی دیتا ہے؟ کیوں؟
جواب: آئینے پر پھونک مارنے کے بعد چہرہ دھندلا نظر آنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سانس میں پانی کے ذرات گیسی حالت (بخارات) میں ہوتے ہیں۔ جب یہ گرم بخارات آئینے کی ٹھنڈی سطح سے ٹکراتے ہیں تو وہ مائع (پانی کے باریک قطروں) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ سے آئینہ عارضی طور پر ‘نیم شفاف’ ہو جاتا ہے اور روشنی کا عکس صاف نہیں بن پاتا۔
(۵) مساوی جسامت کے دو باکس ہیں۔ ایک میں کنکر، پتھر بھرے ہیں اور دوسرے میں اسپنج کے ٹکڑے۔ باکس کا ڈھکن کھولے بغیر آپ کیسے پہچان پائیں گے کہ کس باکس میں کیا ہے؟
جواب: ہم دونوں باکس کو اٹھا کر ان کے وزن (کمیت) کا اندازہ لگا کر باآسانی پہچان سکتے ہیں۔ جس باکس میں کنکر اور پتھر ہوں گے، وہ بھاری ہوگا کیونکہ پتھر کی کثافت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ذرات مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔ جس باکس میں اسپنج ہوگا، وہ ہلکا ہوگا کیونکہ اسپنج کی کثافت کم ہوتی ہے۔ کثافت (کمیت تقسیم حجم) کے اس فرق سے ڈھکن کھولے بغیر معلوم ہو جائے گا کہ بھاری باکس میں پتھر اور ہلکے باکس میں اسپنج ہے۔
(۶) نیچے دیے ہوئے کس گروہ میں سب سے زیادہ مائع اشیا ہیں؟
الف) پتھر، پانی، دھواں
ب) دودھ، تیل، شربت
ج) ہوا، لوہا، بھاپ
جواب: گروہ ‘ب’ (دودھ، تیل، شربت) میں سب سے زیادہ مائع اشیا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کی تینوں اشیا مائع حالت میں ہیں جن کے ذرات مضبوطی سے نہیں جڑے ہوتے، یہ بہاؤ رکھتی ہیں اور جس برتن میں رکھی جائیں اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
(۷) شیشے کا ٹکڑا، بٹر پیپر، بیاض کا مقوا، پلاسٹک کی شیٹ، سینڈ پیپر اور تیل لگا ہوا کاغذ؛ ان میں شفاف اور غیر شفاف چیزوں کی دو الگ الگ فہرستیں بنائیے۔
جواب:
شفاف اشیا: شیشے کا ٹکڑا، پلاسٹک کی شیٹ (اگر صاف ہو)۔
غیر شفاف اشیا: بیاض کا مقوا، سینڈ پیپر۔
(وضاحت: بٹر پیپر اور تیل لگا ہوا کاغذ ‘نیم شفاف’ اشیا ہیں کیونکہ ان سے روشنی کا محض کچھ حصہ ہی گزر پاتا ہے، اس لیے انہیں غیر شفاف یا مکمل شفاف کی فہرست میں نہیں رکھا جا سکتا)۔
(۸) پڑوسی کے گھر میں پیاز کے پکوڑے بن رہے ہیں۔ ان کے گھر نہ جاتے ہوئے ہمیں اپنے گھر میں یہ سمجھ میں آتا ہے۔ شے کی حالت اور اس بات میں کیا تعلق ہے؟
جواب: اس بات کا تعلق شے کی ‘گیسی حالت’ سے ہے۔ جب پکوڑے تلے جاتے ہیں تو ان کی خوشبو کے ذرات گیسی حالت اختیار کر لیتے ہیں۔ گیس کے ذرات ایک دوسرے سے الگ ہو کر دستیاب پوری جگہ پر بکھر جاتے ہیں اور دور تک سفر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہوا میں شامل ہو کر یہ ذرات پڑوسی کے گھر سے ہمارے گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔
(۹) ۳ ملی لیٹر حجم والے مائع کی کمیت ۵.۷ گرام ہے تو کثافت معلوم کیجیے۔
جواب:
کثافت معلوم کرنے کا ضابطہ = کمیت ÷ حجم
مائع کی کمیت = ۵.۷ گرام
مائع کا حجم = ۳ ملی لیٹر
کثافت = ۵.۷ ÷ ۳ = ۱.۹
اس مائع کی کثافت ۱.۹ گرام / ملی لیٹر ہے۔
(۱۰) آج کل عمارتوں کی تعمیر کرتے وقت کھڑکیوں میں مختلف قسم کے شیشے لگائے جاتے ہیں۔ دن میں یہ شیشے باہر سے رنگین آئینے کی طرح نظر آتے ہیں اور کمرے کے اندر کی چیزیں باہر سے دکھائی نہیں دیتیں۔ جب کہ کمرے میں موجود لوگوں کو باہر کی چیزیں صاف نظر آتی ہیں۔ اس شیشے کو کیا کہیں گے؟ شفاف، غیر شفاف یا نیم شفاف۔
جواب: اس قسم کے شیشے کو اندر موجود لوگوں کے لحاظ سے شفاف کہا جائے گا کیونکہ وہ باہر کی چیزیں صاف دیکھ سکتے ہیں اور روشنی اندر آ رہی ہے۔ لیکن باہر موجود لوگوں کے لحاظ سے یہ غیر شفاف کی طرح عمل کرتا ہے کیونکہ روشنی اندر نہیں جا پاتی اور عکس بناتی ہے۔ تکنیکی طور پر روشنی کے اس برتاؤ کی وجہ سے اسے ایک طرفہ (One-way) شفاف شیشہ مانا جاتا ہے۔
(۱۱) گاڑی کی کانچ پر کالا تل فلم چڑھائی جاتی ہے۔ اس سے کیا ہوتا ہے؟
(الف) شیشہ زیادہ شفاف ہو جاتا ہے۔
(ب) شیشہ غیر شفاف ہو جاتا ہے۔
(ج) شیشہ نیم شفاف ہو جاتا ہے۔
جواب: (ج) شیشہ نیم شفاف ہو جاتا ہے۔
وضاحت: کالی فلم لگانے سے شیشے کے آر پار جانے والی روشنی کی مقدار کم ہو جاتی ہے (پوری روشنی نہیں گزرتی)۔ روشنی کے جزوی گزرنے کی وجہ سے شیشہ نیم شفافیت کی خصوصیت اختیار کر لیتا ہے۔
(۱۲) ایک کلو لوہا اور ایک کلو کپاس میں سے کس کا حجم زیادہ ہوگا؟
جواب: ایک کلو کپاس کا حجم (جسامت یا گھیری گئی جگہ) لوہے سے بہت زیادہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوہے کی کثافت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس کے ذرات ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اس لیے وہ کم جگہ گھیرتا ہے۔ جبکہ کپاس کی کثافت کم ہوتی ہے اور اس کے ذرات کے درمیان کافی خالی جگہ (ہوا) موجود ہوتی ہے، اس لیے وہ زیادہ جگہ گھیرتی ہے۔
(۱۳) ایک کلو لوہا اور ایک کلو کپاس ترازو کے دو پلڑوں میں رکھے جائیں تو کون سا پلڑا نیچے جائے گا؟
جواب: ترازو کے دونوں پلڑے برابر رہیں گے، کوئی بھی پلڑا نیچے نہیں جائے گا۔ ترازو کسی چیز کی کثافت یا حجم نہیں ناپتا بلکہ اس کی کمیت (وزن) ناپتا ہے، یعنی زمین اسے کتنی قوت سے کھینچتی ہے۔ چونکہ دونوں اشیا کی کمیت ایک کلو گرام (مساوی) ہے، اس لیے توازن برقرار رہے گا۔
(۱۴) دی ہوئی تصویر میں پیمائش کے کچھ آلات دیے ہوئے ہیں۔
* حجم ناپنے والے اور کمیت ناپنے والے آلات کی الگ الگ فہرست بنائیے۔
جواب:
حجم ناپنے والے آلات: پیمائشی استوانہ (Measuring Cylinder)، انجکشن سرنج۔
کمیت (وزن) ناپنے والے آلات: دو پلڑوں کا ترازو، کمانی دار ترازو (اسپرنگ بیلنس)۔
* ان میں سے کون سا آلہ ایسا ہے جسے شفاف ہونا ہی ضروری ہے؟ کیوں؟
جواب: پیمائشی استوانہ اور انجکشن سرنج کا ‘شفاف’ ہونا بے حد ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں مائع بھر کر باہر سے اس کی سطح کی اونچائی اور آلے پر موجود نشانات دیکھ کر مائع کا صحیح حجم معلوم کیا جاتا ہے۔ اگر یہ آلات غیر شفاف ہوں گے تو مائع کی سطح نظر نہیں آئے گی اور حجم کی پیمائش ممکن نہیں ہوگی۔
سرگرمی ۔ مقناطیس کا استعمال کر کے بنائے جانے والے کھلونے آپ نے دیکھے ہوں گے۔ ایسا کوئی کھلونا آپ بھی تیار کیجیے۔ دوستوں کو دکھائیے اور اس کے بارے میں معلومات دیجیے۔
جواب: مقناطیسی کھلونا (حرکت کرنے والی گاڑی): ہم ایک مقناطیس اور ایک چھوٹی پلاسٹک کی کھلونا گاڑی کا استعمال کر کے ایک دلچسپ کھلونا بنا سکتے ہیں۔ کھلونا گاڑی کی چھت پر ایک لوہے کا سکہ یا کلپ چپکا دیں۔ اب ایک مقناطیس لیں اور اسے گاڑی کے قریب (بغیر چھوئے) لے جائیں۔ جیسے ہی آپ مقناطیس کو آگے بڑھائیں گے، مقناطیسی خصوصیت (کشش) کی وجہ سے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچے گا اور گاڑی خود بخود آگے چلنے لگے گی۔ یہ کھلونا مقناطیس اور مقناطیسی اشیا (لوہے) کے درمیان کشش کے اصول پر کام کرتا ہے۔
___________________________________
کوئز —Quiz
"کیا آپ نے سبق سمجھ لیا ہے؟ چلیں ایک کوئز دے کر چیک کرتے ہیں۔”











